ہجرت کے دسویں سال ذوالحجہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی نجران سے مکہ آمد، تاکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کریں
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہجرت کے دسویں سال ذوالحجہ میں نجران سے مکہ تشریف لائے تاکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کریں۔

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہجرت کے دسویں سال ذوالحجہ میں نجران سے مکہ تشریف لائے تاکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کریں۔
یہ واقعہ ہجرت کے دسویں سال کے واقعات میں حجۃ الوداع سے کچھ پہلے اور حج سے متعلق واقعات کے ضمن میں آتا ہے۔
اور اس سال ذوالحجہ میں: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نجران سے مکہ تشریف لائے تاکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کریں۔
مطلب یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ حج کے موسم میں نجران سے مکہ آئے، اور ان کا مقصد یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کریں۔
زکوٰۃ وصول کرنے والے۔ ہم پیچھے جان چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ واپسی آٹھویں سال کے آخری دنوں میں ہوئی تھی، پھر جیسے ہی 9 ہجری کے محرم کا چاند طلوع ہوا، رسول اللہ ﷺ نے قبائل کی طرف زکوٰۃ وصول کرنے والے روانہ فرمائے، اور ان کی فہرست یہ ہے: 1 ـ عیینہ بن حصن، بنو تمیم کی طرف۔ 2 ـ یزید بن حصین، اسلم اور غفار کی طرف۔ 3 ـ عباد بن بشر اشہلی، سلیم اور مزینہ کی طرف۔
ہجرت کے دسویں سال میں علی رضی اللہ عنہ کے حج کے لیے آنے کا ذکر۔
عبادت میں صحابہ کرام کی نبی کریم ﷺ کے ساتھ وابستگی کا اظہار۔
نجران سے مکہ آئے تاکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کریں
نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج ادا کرنے کی حرص و شوق۔
جہاں تک ممکن ہو، نیکی کے کاموں میں اہل فضل کی موافقت کا اہتمام کرنا۔
خیر اور عبادت کے موسموں کی طرف پیش قدمی کرنا۔
اس کا اطلاق صرف اسی مفہوم تک محدود رہے گا جو روایت سے ٹھیک ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔
مسلمان کے لیے مستحب ہے کہ وہ خیر اور عبادت کے مواقع تلاش کرے اور اہل صلاح کے ساتھ ان میں شریک ہو۔