ہجرت کا دسواں سال (10 ہجری) میں صدف کے وفد کی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آمد
روایات میں مذکور ہے کہ صدف کا وفد ہجرت کا دسواں سال (10 ہجری) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

روایات میں مذکور ہے کہ صدف کا وفد ہجرت کا دسواں سال (10 ہجری) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
یہ واقعہ مکی دور کے اواخر میں قبائل اور وفود پر اسلام کی پیشکش کے مرحلے میں شامل ہے۔
اور اسی سال صدف کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
دستیاب معلومات سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ صدف کی ایک جماعت اس سال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی، البتہ ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی یا اس کے نتائج کیا رہے، اس کا بیان نہیں ملتا۔
مصدقین۔ ہم گزشتہ بیان سے جان چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ واپسی آٹھویں سال کے آخری دنوں میں ہوئی تھی۔ پھر محرم 9 ہجری کا چاند طلوع ہوتے ہی رسول اللہ ﷺ نے مصدقین کو قبائل کی طرف روانہ فرمایا، اور ان کی فہرست یہ ہے: 1 ـ عیینہ بن حصن بنو تمیم کی طرف۔ 2 ـ یزید بن الحصین اسلم اور غفار کی طرف۔ 3 ـ عباد بن بشر اشہلی سلیم اور مزینہ کی طرف۔
یہ ہجرت کے دسویں سال میں نبی کریم ﷺ کے پاس وفود کی آمد کے تسلسل پر دلالت کرتا ہے۔
یہ قبائل کے سامنے اسلام پیش کیے جانے کے دائرے کی وسعت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
صدف کا وفد حضرموت کے قبائل سے تعلق رکھنے والا ایک یمنی وفد تھا، جو عام الوفود میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور وہ دس سے کچھ زائد افراد تھے۔ انہوں نے اپنے اسلام کا اعلان کیا تو نبی کریم ﷺ نے انہیں سلام کے آداب کی طرف توجہ دلائی، پھر انہیں نماز کے اوقات سکھائے۔ ان کی آمد قبائل کے اسلام میں داخل ہونے کی ایک مثال تھی، اور اس بات کی بھی کہ وفود محض وفاداری کے اعلان کا نام نہ تھے، بلکہ تعلیم و تربیت کی مجلسیں تھیں جن میں آنے والے دین کے آداب اور فرائض سیکھتے تھے۔
صرف ثابت شدہ معلومات پر اکتفا کیا جائے اور جن تفصیلات کی صراحت نہیں ملتی ان کے بارے میں قطعی بات نہ کی جائے۔
دستیاب معلومات سے وفد کی آمد کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوتا۔