ہجرت کے دسویں سال (10 ہجری) میں عبس کے وفد کی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آمد
عبس کا وفد ہجرت کے دسویں سال (10 ہجری) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

عبس کا وفد ہجرت کے دسویں سال (10 ہجری) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
یہ واقعہ نبوت کے دسویں سال کے اواخر میں قبائل اور افراد پر اسلام پیش کرنے کے مرحلے میں شامل ہے۔
اور اسی سال عبس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
مقصود یہ ہے کہ قبیلہ عبس کی ایک جماعت اس سال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی۔ مرجع مواد سے ثابت ہے کہ عبس ان قبائل میں سے تھا جن پر قبائل کو دعوت دینے کے موسم میں اسلام پیش کیا گیا۔
نبی کریم ﷺ ہجرت کے دسویں سال (10 ہجری) میں مکہ سے باہر قبائل اور افراد پر اسلام پیش فرما رہے تھے۔
مکی دور کے آخر میں اسلام کی دعوت (تبلیغ) کا وسیع ہونا اور اس کا قبائل پر پیش کیا جانا۔
یہ مکی دور کے آخری زمانے میں دعوت کے مسلسل پھیلاؤ کی دلیل ہے۔
یہ مکہ سے باہر عرب قبائل تک دعوت کے پہنچنے کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ نبی کریم ﷺ کے عرب قبائلی ڈھانچے کے ساتھ روابط کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ لوگوں کے سامنے حق کو حکمت اور براہِ راست رابطے کے ساتھ پیش کرنے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
یہ دعوت کے مقامی دائرے سے قبائل کے وسیع تر دائرے تک منتقل ہونے میں معاون ہے۔
یہ دعوت کی نصرت کے لیے مکہ سے باہر ایک بنیاد قائم کرنے کے عمل کا حصہ ہے۔
وفد کا استقبال اور اسلام کی دعوت دینا
عبس کا وفد غطفان کے قبیلہ عبس کی ایک جماعت تھی، جو وفود کے سال میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اسلام اور اطاعت کا اعلان کرتے ہوئے حاضر ہوئی۔ ان کی آمد اس قبیلے کے اسلام کے پرچم تلے آنے کی علامت ہے جو جاہلیت میں جنگوں اور شہسواری کے لیے معروف تھا، نیز یہ نجد اور غطفان کے قبائل تک دعوت (تبلیغ) کے پھیلاؤ اور قبائلی عصبیت سے ایمان کی جماعت کی طرف وفاداری کی منتقلی کو ظاہر کرتی ہے۔
نبوی تبلیغ کا دائرہ وسیع ہو کر قبائل تک پہنچ گیا۔
لوگوں کے استقبال اور انہیں دعوت دینے میں نرمی اختیار کرنا۔
قبائل کا مکہ میں دعوت کے مرکز سے رابطہ۔
داعیوں کو لوگوں کے سامنے رسالت پیش کرنے میں صبر کی تعلیم دینا۔
دعوت کو وفود اور ملاقاتوں کی صورت میں منظم کرنا۔
قبیلے کی حدود سے باہر رسالت کے معاشرے کی تشکیل کا آغاز۔
مختلف معاشروں اور اداروں کے ساتھ دعوتی رابطے کی کمزوری۔
لوگوں تک پہنچنا اور انہیں واضح اور براہِ راست زبان میں حق سے روشناس کرانا ضروری ہے۔
عوام کے ساتھ میدانی کام اور تعارفی ملاقاتوں کی اہمیت۔
مختلف سماجی گروہوں کے ساتھ منظم مکالمے کی قدر۔
وہ سیکھنے اور حق کو قبول کرنے کے لیے کھلے ذہن کا ہو۔
یہ صرف عمومی عبرت تک محدود رہے گا اور ایسی تطبیقات سے گریز کیا جائے گا جو ثابت نہیں۔
نبوی سیاق وحی پر مبنی دعوت کا تھا، جبکہ موجودہ دور میں اس سے استفادہ اسلوب اور تنظیم میں ہوگا۔
حق کو وضاحت سے پہنچاؤ، اپنے اردگرد کے لوگوں سے آغاز کرو، پھر رابطے کا دائرہ وسیع کرو۔