شاہ فارس کا قتل اور اس کی بیٹی بوران کی تخت نشینی، نیز اس سے منسوب حدیث کا ذکر
فارس کا بادشاہ (کسریٰ) ہجرت کا نواں سال (9 ہجری) میں قتل ہوا، پھر اس کی بیٹی بوران کو اہل فارس (ساسانی) پر حکمران بنایا گیا، اور نبی کریم ﷺ سے منسوب ایک قول ہے: “ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، جس نے اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کو سونپ دی ہو۔‘‘ [HadeethEnc.com, api-v1]”۔

فارس کا بادشاہ (کسریٰ) ہجرت کا نواں سال (9 ہجری) میں قتل ہوا، پھر اس کی بیٹی بوران کو اہل فارس (ساسانی) پر حکمران بنایا گیا، اور نبی کریم ﷺ سے منسوب ایک قول ہے: “ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، جس نے اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کو سونپ دی ہو۔‘‘ [HadeethEnc.com, api-v1]”۔
ہجرت کا نواں سال (9 ہجری) کے سیاق میں ایک بیرونی سیاسی خبر۔
اور اسی سال فارس کا بادشاہ (کسریٰ) قتل کر دیا گیا، اور اہل فارس (ساسانی) نے اس کی بیٹی (بوران) کو اپنا حکمران بنا لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، جس نے اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کو سونپ دی ہو۔‘‘ [HadeethEnc.com, api-v1]”۔
جب فارس کے بادشاہ (کسریٰ) نے نبی کریم ﷺ کا خط پھاڑ دیا تو ساسانی سلطنت میں انتشار پھیل گیا، چنانچہ کسریٰ کو اس کے بیٹے شیرویہ نے قتل کر دیا، پھر شیرویہ بھی تھوڑی مدت بعد مر گیا، اور اہل فارس (ساسانی) میں تخت پر جھگڑا ہوا یہاں تک کہ انہوں نے کسریٰ کی بیٹی بوران کو اپنا حکمران بنا لیا۔ جب نبی کریم ﷺ کو اس کی تخت نشینی کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: “ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، جس نے اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کو سونپ دی ہو۔‘‘ [HadeethEnc.com, api-v1]”، جیسا کہ صحیح بخاری میں ثابت ہے۔ یہ واقعہ کسریٰ کی سلطنت کے پارہ پارہ ہونے کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی دعا کے پورا ہونے کو ظاہر کرتا ہے، اور فارسی سلطنت کے آخری دور میں سیاسی کمزوری کی اس حالت کو بھی، کہ اقتدار ساسانی خاندان کے افراد کے درمیان سخت انتشار کے ساتھ منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ چند سال بعد اس کا زوال ہو گیا۔
اہل فارس (ساسانی) میں اقتدار بوران کو منتقل ہو گیا۔
سیرت کے زمانے کی ہم عصر ایک بڑی سلطنت میں تبدیلیِ حکمرانی کے بارے میں ایک تاریخی خبر۔
اہل فارس (ساسانی) کی سلطنت میں اقتدار کی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ اسلامی دنیا کے گرد واقع بڑی سلطنتوں میں تبدیلی کی حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔
مقتول جس کی حکمرانی ختم ہو گئی
بادشاہ کے قتل کے بعد حکمران بنیں
قیادت کی تبدیلی ریاست کا رخ بدل سکتی ہے۔
ریاستوں میں سیاسی قیادت کی اچانک تبدیلی۔
بڑی سیاسی تبدیلیوں کے معاشروں پر اثرات پر نظر رکھنا۔
اس بات کا شعور کہ قیادت کی تبدیلی عمومی پالیسیوں کو بدل سکتی ہے۔
اقتدار کی منتقلی کے وقت ادارہ جاتی استحکام کی اہمیت۔
یہ سمجھنا کہ بڑی سیاسی خبریں عمومی حالات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اس سے غیر ثابت شدہ عمومی نتائج اخذ نہیں کیے جانے چاہئیں۔
یہ واقعہ سیرت کے سیاق میں ایک تاریخی خبر کے طور پر آیا ہے، جبکہ آج سیاسی نظام مختلف ہیں۔
اقتدار کی منتقلی کے وقت ادارہ جاتی استحکام کا لحاظ رکھنا چاہیے۔