ہجرت کے آٹھویں سال نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے نرخ مقرر کرنے کی درخواست کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو“۔ [HadeethEnc.com, api-v1]
روایت میں آیا ہے کہ ہجرت کے آٹھویں سال (8 ہجری) میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ ان کے لیے نرخ مقرر فرما دیں، چنانچہ آپ ﷺ نے انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو“۔ [HadeethEnc.com, api-v1] ذکر فرمایا۔

روایت میں آیا ہے کہ ہجرت کے آٹھویں سال (8 ہجری) میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ ان کے لیے نرخ مقرر فرما دیں، چنانچہ آپ ﷺ نے انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو“۔ [HadeethEnc.com, api-v1] ذکر فرمایا۔
ہجرت کے آٹھویں سال (8 ہجری) کے واقعات میں ایک محدود معاشی و فقہی واقعہ۔
اور اس سال: نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے نرخ مقرر فرما دیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: “انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو“۔ [HadeethEnc.com, api-v1]”۔

نرخوں میں اضافہ ہو گیا تو کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ کوئی خاص نرخ مقرر فرما دیں، آپ ﷺ نے انہیں جواب دیا کہ اللہ ہی رزق کا اندازہ مقرر کرتا ہے، وہی اسے کم کرتا ہے اور وہی بڑھاتا ہے۔
لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو گئی کہ نرخوں اور رزق کا معاملہ اللہ ہی کی طرف لوٹتا ہے۔
یہ معاشی معاملے میں نبی کریم ﷺ کے موقف کو دستاویزی طور پر بیان کرتا ہے۔
یہ معاش کے مسائل کو اللہ پر توکل کے عقیدے سے جوڑتا ہے۔
یہ مہنگائی کے بحران پر معاشرے کے ردعمل کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ معاملات کو اللہ کی طرف لوٹانے اور نص سے تجاوز نہ کرنے کی تربیت دیتا ہے۔
یہ معیشت کو ایمانی نقطۂ نظر سے سمجھنے کی بنیاد رکھتا ہے۔
آپ ﷺ نے نرخ مقرر کرنے کی درخواست کا جواب دیا۔
انہوں نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ ان کے لیے نرخ مقرر فرما دیں۔
اس پر ایمان کہ اللہ ہی قیمتیں مقرر کرنے والا، تنگی دینے والا، کشادگی دینے والا اور رزق دینے والا ہے۔
رضا اور تسلیم، اور اسباب سے حد سے زیادہ وابستہ نہ ہونا۔
معاشی بحرانوں سے منظم اجتماعی جذبے کے ساتھ نمٹنا۔
قیمتیں اور رزق اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اور سوال و جواب نص کی حدود میں رہتے ہیں۔
لوگوں کو مسائل کو وحی کی طرف لوٹانا سکھانا۔
معیشت کو ایمانی اقدار سے جوڑنا۔
قیمتوں میں اضافے اور معاشی بحرانوں کی پریشانی۔
جائز اسباب اختیار کرتے ہوئے، نص سے تجاوز کیے بغیر اللہ کی طرف رجوع کرنا۔
معاشی بحرانوں کے حل میں ایمانی پہلو کو راسخ کرنا۔
معاشی بحرانوں کا شعور اور عدل کے ساتھ انتظام کرنا۔
اس بات پر اطمینان کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس روایت سے موجودہ دور کی قیمت مقرر کرنے کی پالیسیوں کے بارے میں کوئی تفصیلی حکم ثابت نہیں ہوتا۔
نبوی سیاق براہِ راست شرعی نص ہے، جبکہ موجودہ دور کے معاملے کے لیے منضبط اجتہاد درکار ہے۔
معاشی بحرانوں میں اللہ پر توکل اور جائز اسباب اختیار کرنے کو یکجا کیا جاتا ہے۔