ہجرت کے دوسرے سال رسول اللہ ﷺ کا لوگوں کو لے کر نماز عید کے لیے پہلی بار عیدگاہ تشریف لے جانا
رسول اللہ ﷺ عیدگاہ تشریف لے گئے اور لوگوں کو نماز عید پڑھائی، اور یہ پہلا موقع تھا کہ آپ ﷺ لوگوں کو لے کر نماز عید کے لیے عیدگاہ تشریف لے گئے۔

رسول اللہ ﷺ عیدگاہ تشریف لے گئے اور لوگوں کو نماز عید پڑھائی، اور یہ پہلا موقع تھا کہ آپ ﷺ لوگوں کو لے کر نماز عید کے لیے عیدگاہ تشریف لے گئے۔
یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اسلامی معاشرے کے اجتماعی شعائر کی تعمیر کا حصہ ہے۔
اور اسی سال رسول اللہ ﷺ عیدگاہ تشریف لے گئے اور لوگوں کو نماز عید پڑھائی، اور یہ پہلا موقع تھا کہ آپ ﷺ لوگوں کو لے کر نماز عید کے لیے عیدگاہ تشریف لے گئے۔
مقصود یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کے ساتھ مسجد سے باہر عیدگاہ میں نماز عید ادا فرمائی، اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ آپ ﷺ لوگوں کو لے کر نماز عید ادا کرنے کے لیے عیدگاہ تشریف لے گئے۔
معلومات میں مذکور ہے کہ یہ ہجرت کے دوسرے سال ہوا، اور الرحیق المختوم میں ذکر ہے کہ مسلمانوں نے پہلی عید شوال 2 ہجری میں منائی۔
مسلمانوں کے ابتدائی دور میں عید کے شعار کو اجتماعی طور پر ظاہر کرنا
اس سال مسلمانوں کے لیے نمازِ عید کی خاطر عیدگاہ کی طرف اجتماعی خروج کا معمول قائم ہو گیا۔
نماز عید کے لیے لوگوں کے ساتھ عیدگاہ کی طرف پہلا مذکور خروج
عید کے شعار کا اظہار اور اس کی عملی تعلیم
مسلمانوں کو ایک جگہ ایک نماز پر جمع کرنا
امت کو عید کی کیفیت کی عملی تعلیم دینا
اسلامی معاشرے کے مظاہر میں سے ایک اجتماعی مظہر کی بنیاد رکھنا
مدینہ میں عمومی شعائر کے نظم کو مستحکم کرنا
آپ ﷺ عیدگاہ تشریف لے گئے اور لوگوں کو نمازِ عید پڑھائی
انہوں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نمازِ عید ادا کی
نماز عید ادا کر کے اللہ کا شکر ادا کرنا
اطاعت پر اجتماع اور جائز خوشی
ایک عمومی شعار میں مسلمانوں کا اتحاد
مدینہ میں مسلم جماعت کا منظم صورت میں سامنے آنا
لوگوں کو عملی فعل کے ذریعے سنت سکھانا
مخصوص جگہ میں اجتماعی شعائر کو منظم کرنا
مسلم معاشرے کی اجتماعی شناخت کی تعمیر
اجتماعی شعائر میں حاضری کی کمزوری یا ان کا منظم نہ ہونا
عمومی شعائر کو اجتماعی اور منظم انداز میں زندہ کرنا
نماز عید کو منظم کرنے اور لوگوں کے سامنے نمایاں کرنے کی اہمیت
عیدوں کے موقع پر منظم دینی اجتماعات کی حمایت کرنا
اجتماعی شعائر میں حاضر ہونے میں پہل کرنا
یہ صرف عیدگاہ کی طرف نکلنے اور نماز عید کے ثابت شدہ امور تک محدود ہے
نبوی سیاق پہلی مذکور مرتبہ کے اعتبار سے تاسیسی تھا، جبکہ موجودہ دور میں یہ ایک قائم شدہ عمل کا تسلسل ہے
عمومی شعائر کو ان کے جامع مقامات پر ان کی شان و ہیبت کی حفاظت کے ساتھ قائم کیا جائے گا۔