یمن میں جھوٹے اسود عنسی کا ظہور، نبوت کا دعویٰ اور یمن کے بعض لوگوں کا اس کے مطیع ہو جانا
ہجرت کا گیارہواں سال (11 ہجری) کے محرم میں یمن میں اسود عنسی کا ظہور ہوا، اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کا فتنہ پھیلتا گیا یہاں تک کہ نجران اور صنعاء اس کے مطیع ہو گئے۔

ہجرت کا گیارہواں سال (11 ہجری) کے محرم میں یمن میں اسود عنسی کا ظہور ہوا، اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کا فتنہ پھیلتا گیا یہاں تک کہ نجران اور صنعاء اس کے مطیع ہو گئے۔
یہ یمن میں عہدِ نبوی کے آخری دور میں رسالت کے مقابلے میں نزاع کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس سال محرم میں یمن میں جھوٹے اسود عنسی کا ظہور ہوا، اس نے نبوت کا دعویٰ کیا، نجران اور صنعاء اس کے مطیع ہو گئے اور اس کا فتنہ بہت بڑھ گیا۔
مراد یہ ہے کہ یمن میں ایک شخص نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا، کچھ لوگ اس کے پیچھے لگ گئے اور یمن کے کئی علاقوں میں اس کا فتنہ بڑھ گیا یہاں تک کہ نجران اور صنعاء اس کے تابع ہو گئے۔
کوئی تفصیلی پس منظر مذکور نہیں، صرف اتنا ذکر ہے کہ یہ واقعہ ہجرت کا گیارہواں سال (11 ہجری) کے محرم میں پیش آیا۔
نبوت کے دعوے کی وجہ سے یمن میں اضطراب پیدا ہو گیا اور فتنہ نجران اور صنعاء تک پھیل گیا۔
یہ واقعہ یمن میں عہدِ نبوی کے آخری دور کے فتنوں میں سے ایک فتنے کے ظہور کی دستاویز ہے۔
یہ جھوٹے دعوائے نبوت کے مقابلے کو واضح کرتا ہے۔
یہ یمن کے بعض علاقوں میں پیدا ہونے والی بدامنی اور ان کے ایک جھوٹے مدعی کے زیرِ اثر آ جانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہ مقامی معاشروں پر فتنے کے اثر کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ جھوٹے مدعیوں کے فریب میں آنے سے خبردار کرتا ہے۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب باطل دعوے پھیلتے ہیں تو استحکام کتنا نازک ہو جاتا ہے۔
یہ دور دراز علاقوں میں ایمان اور شرعی اقتدار کو مستحکم کرنے کی اہمیت واضح کرتا ہے۔
نبوت کا دعویدار اور فتنے کا بانی
نبوت اللہ کی طرف سے حق ہے، اس میں دعویٰ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
دین میں سب سے بڑے جھوٹ سے خبردار کرنا۔
فتنہ پھیل کر جماعتوں اور شہروں کو متاثر کر سکتا ہے۔
مذہبی دعویٰ اثر و رسوخ اور اقتدار میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
حق کی تحقیق ضروری ہے اور ہر مدعی کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔
ایک واضح مرجع کی ضرورت ہے جو انتشار کو روکے۔
دین کی حفاظت تمدن اور استحکام کی حفاظت کی بنیاد ہے۔
دین یا فکر کی بنیاد پر باطل دعووں یا گمراہ کن قیادتوں کا ظہور۔
بغیر دلیل کے دعویٰ کرنے والوں کی پیروی نہ کرنا اور ثابت شدہ حق کی طرف رجوع کرنا۔
منحرف دعووں کے خلاف آگاہی کو فروغ دینا۔
امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے فتنوں سے ہوشیار رہنا۔
تحقیق و تصدیق کرنا اور نعروں کے فریب میں نہ آنا۔
یہ صرف عمومی عبرت تک محدود ہے، بے ضابطہ اطلاق کے بغیر۔
نبوی دور وحی کا زمانہ تھا اور اس میں مدعیِ نبوت کا ظہور ہوا، جبکہ موجودہ دور میں انحراف کی صورتیں متعدد ہیں۔
دین یا معاشرے میں ہر بڑے دعوے کے لیے دلیل اور صحیح مرجعیت درکار ہے۔