ہجرت کا نواں سال (9 ہجری) میں بہراء کے وفد کی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آمد
معلومات میں آیا ہے کہ بہراء کا ایک وفد ہجرت کا نواں سال (9 ہجری) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

معلومات میں آیا ہے کہ بہراء کا ایک وفد ہجرت کا نواں سال (9 ہجری) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
اور اسی سال بہراء کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
معلومات میں آیا ہے کہ بہراء کا ایک وفد ہجرت کا نواں سال (9 ہجری) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
ہجرت کے نویں سال بہراء کے ایک وفد کی موجودگی کا ثبوت
یہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں وفود کے مسلسل آنے پر دلالت کرتا ہے
وفد کا استقبال کرنے والے
بہراء کا وفد قبیلۂ بہراء سے تعلق رکھنے والا قضاعہ کا وفد تھا، جو یمن سے ہجرت کا نواں سال (9 ہجری) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور یہ تیرہ آدمی تھے۔ وہ مدینہ میں مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے، انہوں نے ان کی عزت افزائی اور میزبانی کی، پھر یہ لوگ نبی کریم ﷺ سے ملے اور فرائض اور اسلام کے احکام سیکھے، اور کچھ دن قیام کے بعد رسول اللہ ﷺ کو الوداع کہا، تو آپ ﷺ نے انہیں عطیہ دے کر رخصت فرمایا اور وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے۔ اس وفد کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ قضاعہ اور یمن کے قبائل میں اسلام کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے، نیز نبی کریم ﷺ اور ان کے اصحاب کی وفود کی عزت افزائی اور ان کی قوموں میں لوٹنے سے پہلے انہیں دین کے بنیادی امور سکھانے کی توجہ کو واضح کرتا ہے۔
نبی کریم ﷺ اور قبائل کے درمیان رابطہ
وفود کے استقبال اور لوگوں سے براہِ راست رابطے کی اہمیت
صرف ثابت شدہ عمومی مفہوم تک محدود رہا جائے، بلا دلیل تفصیلات شامل نہ کی جائیں
اس واقعے سے وفود اور مہمانوں کے ساتھ منظم رابطے کی مشروعیت معلوم ہوتی ہے