سریہ غالب بن عبداللہ لیثی بجانب بنو ملوح (کدید میں)، ہجرت کے آٹھویں سال (8 ہجری) کے ماہ صفر میں
غالب بن عبداللہ لیثی کا سریہ ہجرت کے آٹھویں سال (8 ہجری) کے ماہ صفر میں بنو ملوح کی طرف کدید میں روانہ ہوا، چنانچہ انہوں نے مال غنیمت حاصل کیا اور سلامت رہے۔

غالب بن عبداللہ لیثی کا سریہ ہجرت کے آٹھویں سال (8 ہجری) کے ماہ صفر میں بنو ملوح کی طرف کدید میں روانہ ہوا، چنانچہ انہوں نے مال غنیمت حاصل کیا اور سلامت رہے۔
یہ واقعہ ہجرت کے آٹھویں سال (8 ہجری) کے سریوں میں شمار ہوتا ہے، جب اسلامی ریاست مستحکم ہو چکی تھی اور اس کی محدود عسکری سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہو گیا تھا۔
اس سال کے ماہ صفر میں غالب بن عبداللہ لیثی کا سریہ بنو ملوح کی طرف کدید میں ہوا، چنانچہ انہوں نے مال غنیمت حاصل کیا اور سلامت رہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق ایک چھوٹی فوجی جماعت غالب بن عبداللہ لیثی کی قیادت میں کدید کے مقام پر بنو ملوح کی طرف روانہ ہوئی، اور وہ مال غنیمت کے ساتھ بخیریت واپس آئے۔
لیکن مرجع مواد میں غالب بن عبداللہ لیثی کا ایک ملتا جلتا سریہ بنو ملوح کی طرف گزشتہ سال کا مذکور ہے، جس کا سبب یہ تھا کہ بنو ملوح نے بشیر بن سوید کے ساتھیوں کو قتل کر دیا تھا۔
معلومات میں مذکور نہیں۔
اس کے بعد کسی تفصیلی تبدیلی کا ذکر نہیں ملتا، سوائے مال غنیمت کے حصول اور سلامتی کے۔
یہ ہجرت کے آٹھویں سال کے سرایا میں سے ایک سریہ ہے۔
یہ اسلامی ریاست کی مسلسل موجودگی اور محدود عسکری پیش قدمی کی صلاحیت کی دلیل ہے۔
اس سے نظم و ضبط اور مہم کے بعد بخیریت واپسی کا اظہار ہوتا ہے۔
یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرایا اطراف کی نگرانی اور مال غنیمت کے حصول کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔
سریہ کے امیر
وہ فریق جس کی طرف سریہ روانہ ہوا
صرف اسی بات پر اکتفا کرنا جو دقیق طور پر منقول ہو، نہ کہ اندازے پر۔
مسلمانوں کی جماعت اور گرد و نواح کے قبائل کے درمیان باہمی تعامل کا پایا جانا۔
جزیرۂ عرب میں مسلمانوں کے اثر و رسوخ کا برقرار رہنا۔
مال غنیمت کا حاصل ہونا۔
ذمہ داریوں کی انجام دہی میں نظم و ضبط اور بخیریت واپسی کی تعلیم۔
سریہ اور قیادت کے لیے باقاعدہ تنظیم کا پایا جانا۔
کشمکش کو بے ترتیبی کے بجائے منظم دائرے میں رکھ کر سنبھالنا۔
کسی منظم ادارے یا جماعت کے اندر کسی متعین میدانی مہم کی انجام دہی۔
مہم کے واضح ہونے اور نص سے تجاوز کیے بغیر مطلوبہ نتیجے کی پابندی کی اہمیت۔
کاموں کی منصوبہ بندی اور منظم عمل درآمد کی اہمیت۔
میدانی مہمات کے لیے واضح قیادت کا ہونا ضروری ہے۔
سونپی گئی ذمہ داری کی پابندی اور نتیجے پر راضی رہنا۔
کسی نص کے بغیر جدید عسکری تفصیلات کو اس واقعے پر منطبق کرنا درست نہیں۔
نبوی دور کا پس منظر قبائلی ماحول میں ریاست کی تعمیر اور اس کے دفاع کا تھا۔
ہر منظم مہم کو واضح قیادت، متعین ہدف اور نتیجے کے دقیق اندراج کی ضرورت ہوتی ہے۔